امریکی ریاست ٹینیسی کے شہر نیش وِل کی جیل میں بدھ کی شام کرسٹا پائیک کی پھانسی دو بار ناکام ہو گئی۔ 50 سالہ پائیک مہلک انجیکشن کی دو کوششوں میں زندہ بچ گئیں اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ان کے وکلاء کے مطابق جمعرات کو ان کی حالت تشویشناک تھی۔
ٹینیسی کے گورنر بل لی نے جمعرات کو اسے المیہ قرار دیا، سال کے باقی عرصے کے لیے تمام طے شدہ سزائے موت معطل کر دیں اور ناکام کارروائی کی آزادانہ جانچ کا حکم دیا۔
ریپبلکن گورنر لی نے صحافیوں کو بتایا: "کوئی بھی نہیں چاہتا تھا کہ گزشتہ رات جو ہوا وہ ہو۔ یہ ایک المیہ ہے اور مجھے گہری تشویش ہے کہ ہماری ریاست میں ایسا ہوا۔ عوام بہتر کے مستحق ہیں اور ہم یقینی بنائیں گے کہ ایسا ہو۔”
پھانسی کیسے ناکام ہوئی
دیر رات عدالت میں دائر درخواست میں ان کے وکلاء نے کہا کہ جیل کے عملے نے پائیک کو پینٹوباربیٹل کی دو سرنجیں لگائیں۔ دوا نے "غیر ضروری اذیت” پہنچائی لیکن جان نہ لے سکی۔
وکیل رینڈی اسپائیوی نے بتایا کہ عملدرآمد کی ٹیم نے ایک گھنٹہ کوشش کی اور انہوں نے پائیک کے بائیں بازو میں کم از کم سات سوئیاں گنیں۔ ڈیتھ چیمبر میں 90 منٹ سے زائد وقت کے دوران پائیک جاگتی رہیں، باتیں کرتی اور گاتی رہیں۔
اسپائیوی نے ان کے الفاظ یاد کیے جب ٹیم رگ تلاش کرنے میں ناکام رہی تھی: "براہ کرم یہاں کوشش کریں، براہ کرم یہاں کوشش کریں۔” انہوں نے بار بار کہا کہ کندھے پر اوپر کی طرف کوشش کریں۔
وکیل اسٹیو فیرل نے بتایا کہ پائیک کو عمر بھر خون کی بیماری لاحق ہے جس سے رگوں میں سوئی لگانا مشکل ہوتا ہے، اور ممکن ہے کہ آئی وی لائن کبھی رگ میں داخل ہی نہ ہوئی ہو، یوں دوا خون کی نالیوں کے بجائے بازو میں بھر گئی۔
دوا دیے جانے سے پہلے پائیک نے کہا تھا: "میں آزاد ہونے کے لیے تیار ہوں… یہ خوشی کا دن ہے۔”
ٹینیسی کا اہم مقدمہ
جنوری 1995 میں پائیک کی عمر 18 سال تھی جب انہوں نے اپنے 17 سالہ دوست تادارل شِپ اور ایک تیسرے ساتھی کے ساتھ 19 سالہ کولین سلیمر کو ناکس وِل کے قریب جنگل میں بہلا کر لے جا کر تشدد کے بعد قتل کر دیا تھا۔ سلیمر ان کی جاب کورپس ووکیشنل سینٹر کی ہم جماعت تھی۔
دونوں نے اعتراف جرم کیا اور فرسٹ ڈگری قتل میں سزا پائی۔ پائیک ٹینیسی کی ڈیتھ رو میں واحد خاتون بن گئیں اور 200 سال سے زائد عرصے میں وہاں پھانسی پانے والی پہلی خاتون ہوتیں۔
ان کے وکلاء نے پھانسی روکنے کی ناکام کوشش کی اور جرم کے وقت کم عمری، بچپن میں جنسی زیادتی اور علاج نہ ہونے والی ذہنی بیماری کا حوالہ دیا۔ اپیل عدالت نے بدھ کی صبح پھانسی سے ایک گھنٹہ قبل روک لگائی تھی، تاہم امریکی سپریم کورٹ نے چند گھنٹے بعد اسے کالعدم کر دیا۔
سلیمر کی والدہ مے مارٹینز پھانسی دیکھنے نیش وِل آئیں۔ جمعرات کو انہوں نے کہا: "میری بیٹی کو انصاف نہ ملا۔” انہوں نے بتایا کہ پائیک مسلسل جاگتی رہیں: "وہ ہنس رہی تھیں۔ سر ہلا رہی تھیں، پاؤں ہلا رہی تھیں۔ اٹھ کر بیٹھنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ پہلی بار انجیکشن سے کام نہ بنا۔ دوسری بار بھی نہ بنا۔”
ٹینیسی کا پریشان کن ریکارڈ
یہ رواں سال ٹینیسی میں دوسری ناکام پھانسی تھی۔ مئی میں حکام نے ٹونی کیرتھرز کی پھانسی اس لیے روک دی تھی کہ آئی وی لائنیں نہیں لگائی جا سکی تھیں۔
ٹینیسی نے 2024 میں پینٹوباربیٹل نامی ایک دوا کے طریقے کو اپنایا تھا۔
اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کہا کہ امریکہ کو ان ممالک کی پیروی کرنی چاہیے جنہوں نے سزائے موت ختم کر دی ہے۔ انہوں نے ایکس پر بیان میں کہا: "متعدد ناکام کوششوں سے پیدا ہونے والی طویل جسمانی و ذہنی اذیت قابل نفرت اور ظالمانہ ہے۔”
ڈیتھ پینلٹی انفارمیشن سینٹر کی رابن ایم ماہر نے اسے "منفرد اور بے مثال” قرار دیا: پھانسی کی دوا لینے کے بعد اتنی دیر زندہ رہنے والا کوئی اور نہیں جسے اسپتال منتقل کیا گیا ہو۔
اب کیا ہوگا
گورنر لی نے آزادانہ جانچ کا حکم دیا ہے۔ پائیک کی پھانسی اور رواں سال کی ایک اور طے شدہ پھانسی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی گئی ہیں جبکہ ان کے وکلاء سزا میں تخفیف کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
ویب ڈیسک

