لاہور: وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک کا نظام ری سیٹ ہونے جا رہا ہے جس سے بہت سی چیزوں میں بہتری آئے گی۔ وہ جمعے کو لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد دینے کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ترقی یافتہ ممالک کے تجربے اور نظام سے سیکھنا چاہیے۔
"میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ اس ملک کا نظام ری سیٹ ہونے جا رہا ہے۔ اس ری سیٹ کے لیے ہمیں بزنس کمیونٹی کے تعاون کی ضرورت ہے۔ جب نظام ری سیٹ ہو گا تو مجھے امید ہے کہ بہت سی چیزیں بہتر ہو جائیں گی۔”
یہ بیان نئے صوبوں اور ملکی انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل پر جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے۔ رواں سال کے شروع میں نقوی کہہ چکے ہیں کہ نظام حکومت تباہ ہو چکا ہے۔
نئے صوبوں کی بحث
نئے صوبوں کی بحث کا آغاز 30 جولائی کو ہوا جب نقوی نے نظام حکومت کی وسیع اصلاح کے حصے کے طور پر اضافی انتظامی یونٹس کا مطالبہ کیا۔ ان کا موقف تھا کہ بہتر حکمرانی، انصاف کی فراہمی اور نوجوانوں کے لیے مواقع پیدا کرنے کے لیے ساختی اصلاحات ناگزیر ہیں۔ اگلے روز آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بھی کہا کہ اگر ضرورت ہو تو اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کیا جانا چاہیے۔
یہ تجویز سندھ میں سیاسی طور پر حساس بن گئی جہاں پیپلز پارٹی نے صوبے کی تقسیم کی سخت مخالفت کی۔ 3 ستمبر کو سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی کہ صوبہ تقسیم نہیں ہو گا۔ تاہم نقوی پیچھے نہ ہٹے اور 5 ستمبر کو کہا کہ حتمی فیصلہ عوام کا ہونا چاہیے۔
برآمدات بڑھانے پر زور
لاہور چیمبر کی تقریب میں نقوی نے کہا کہ ملکی معاشی مسائل کا حل ہر صورت برآمدات بڑھانا ہے۔ ان کے مطابق ہدف 170 ارب ڈالر ہو یا 9 ارب ڈالر، ان کے لیے ہر ڈالر اہم ہے۔ انہوں نے بزنس کمیونٹی پر زور دیا کہ "میڈ ان پاکستان” کی جانب بڑھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سالانہ 40 ارب ڈالر سے زائد کی نان آئل اشیا درآمد کرتا ہے اور اس بل کو 20 ارب ڈالر تک کم کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 10 ارب اور 5 ارب ڈالر کے اہداف مقرر کر کے تین سے چار سال میں نمایاں پیش رفت کا دعویٰ کیا۔
ایران ثالثی کے انکشافات
نقوی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ گزشتہ تین سے چار ماہ کے دوران وہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے ثالثی کی کوششوں میں اکثر ایران جاتے رہے ہیں۔ یہ تنازع 28 فروری سے جاری ہے جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ 30 سے 40 سال کی جنگ اور پابندیوں کے باوجود ایران کی خود انحصاری دیکھ کر ان کا وفد حیران رہ گیا۔
"ان کے پاس تعمیراتی صنعت ہے، آٹوموبائل صنعت ہے، جس چیز کا نام لیں وہ اپنے ملک میں بناتے ہیں۔ اگر ایرانی سب کچھ خود بنا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں بنا سکتے؟”
ویب ڈیسک

