سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے چیف سلیکٹر کے عہدے کی پیشکش سے متعلق خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ میں کسی عہدے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ سوشل میڈیا پر حالیہ دنوں میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ پی سی بی قومی ٹیم کے ڈھانچے کی بہتری کے لیے انہیں چیف سلیکٹر بنانے پر غور کر رہا ہے اور چیئرمین محسن نقوی سے ان کی ملاقات بھی ہوئی ہے۔
راولپنڈی ایکسپریس نے پی ٹی وی کے ایک اسپورٹس پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ان خبروں کی سختی سے تردید کی۔
ہیوسٹن سے تردید
"میں ان دنوں ہیوسٹن میں ہوں۔ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں اور نہ ہی میری کوئی ملاقات ہوئی ہے۔ مجھے بالکل دلچسپی نہیں۔ میں اپنے بیان پر قائم ہوں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ سن رہے ہیں کہ وہ کوئی بڑا عہدہ سنبھال رہے ہیں اور انہوں نے رقم کا مطالبہ کیا ہے لیکن یہ سب جھوٹ ہے۔ 51 سالہ سابق فاسٹ بولر کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کرکٹ کو ترقی کرتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن بورڈ کے ساتھ کام کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
والدہ کی نصیحت
شعیب اختر کا انکار ان کے دیرینہ موقف کے عین مطابق ہے۔ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ وہ بورڈ کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتے اور اس کی وجہ اپنی مرحوم والدہ کی نصیحت بتاتے ہیں۔ ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی والدہ نے انتقال سے پہلے انہیں کہا تھا کہ کبھی پاکستانی سیاست میں قدم نہ رکھنا اور دوسرا پاکستان کرکٹ بورڈ سے دور رہنا۔
انہوں نے واضح کیا کہ سوشل میڈیا پر جو کچھ سامنے آ رہا ہے اس میں کوئی صداقت نہیں۔ ان کے تازہ بیان نے ان افواہوں کو ختم کر دیا ہے جن میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ انہوں نے عہدے کے لیے بھاری معاوضے کا مطالبہ کیا تھا۔
ویب ڈیسک

