وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اتوار کے روز لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ٹوٹنے کی تصدیق کر دی اور اس کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی پر عائد کی، جن پر انہوں نے مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام لگایا۔ نقوی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا آغاز ہوتے ہی ڈائیلاگ جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
99 فیصد نکات پر اتفاق، ڈرافٹ تیار تھا
وزیر داخلہ نے بتایا کہ 99 فیصد نکات پر اتفاق ہو چکا تھا اور ڈرافٹ تیار تھا۔ وہ یہ ڈرافٹ لے کر صدر آصف علی زرداری کے پاس گئے، تاہم واپسی پر معلوم ہوا کہ سہیل آفریدی نے اس میں ترمیم کر دی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ہفتے کے روز مذاکرات کے دوران چار ڈرافٹس میں ترامیم کی گئیں۔ نقوی نے کہا کہ مذاکرات کی ناکامی کے بارے میں صدر زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کو آگاہ کر دیا گیا ہے۔
دو معاہدے زیر غور تھے
نقوی کے مطابق دو معاہدے زیر بحث تھے: ایک حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان، اور دوسرا صوبہ خیبر پختونخوا کے ساتھ انسداد دہشت گردی کا معاہدہ۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے نے انسداد دہشت گردی پر تحریری معاہدے اور 72 گھنٹوں میں عمل درآمدی منصوبہ دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی، مگر آخری مرحلے میں پیچھے ہٹ گیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق صوبائی حکومت نے پولیس ایکٹ 2026 پر نظرثانی، دہشت گردوں کو پناہ گاہیں نہ دینے، کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور اس کی افغان حلیف تنظیم کی واضح مذمت، افغان پناہ گزینوں کی واپسی اور ان کے کیمپوں کے خاتمے کی حمایت، عبوری افغان حکومت سے رابطے منقطع کرنے، انسداد دہشت گردی آپریشنز کی فنڈنگ اور نیشنل ایکشن پلان کے نفاذ پر اتفاق کیا تھا۔
مذاکرات کاروں کی تعریف، آفریدی کی عدم شرکت پر سوال
نقوی نے پی ٹی آئی کے مذاکرات کاروں بیرسٹر گوہر علی خان، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور سینیٹر راجہ ناصر عباس کے مخلصانہ کردار کی تعریف کی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سہیل آفریدی خود مذاکرات میں کیوں شریک نہیں ہوئے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ مذاکرات اس لیے ناکام ہوئے کیونکہ صوبائی قیادت نے دہشت گردی کے خلاف مستقبل میں تعاون کی یقین دہانی نہیں کرائی۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف راجہ ناصر عباس کے مطابق تعطل کا مرکز صوبے کی انسداد دہشت گردی پالیسی اور جیل میں قید پی ٹی آئی بانی عمران خان کو اپنے ذاتی معالجین تک رسائی کا مطالبہ تھا۔
آفریدی نے اپنا ڈرافٹ جاری کر دیا
دوسری جانب سہیل آفریدی نے مجوزہ معاہدے کا اپنا ڈرافٹ آن لائن جاری کر دیا اور کہا کہ اس میں ہر مطالبہ آئینی اور قانونی ہے۔ ان کے ڈرافٹ میں وزیر اعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کے درمیان باضابطہ ملاقاتوں، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے طبی اور قانونی حقوق، خواتین سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 72 گھنٹوں میں مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک کی تیاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی کو دی گئی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی کی گئی تو پارٹی پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
اب آگے کیا ہوگا؟
نقوی نے خبردار کیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی احتجاج سے متعلق ہدایات کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی ہوگی، اور مارچ کے دوران کسی بھی جانی نقصان کی ذمہ داری سہیل آفریدی پر عائد ہوگی۔ مذاکرات ختم ہونے کے بعد حکومت کی توجہ وفاقی دارالحکومت کی سیکیورٹی پر ہے، جہاں اسلام آباد میں رینجرز کی تعیناتی 15 اکتوبر تک بڑھا دی گئی ہے اور خصوصی پولیس سیکیورٹی پلان نافذ ہے۔
ادھر پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ اتوار کے روز لکی مروت سے شروع ہو گیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کا حق برقرار رکھا جائے گا۔
اہم سوالات
حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟
نقوی کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت نے آخری مرحلے میں طے شدہ نکات سے پیچھے ہٹ کر وہ ڈرافٹ تبدیل کیا جس پر 99 فیصد اتفاق ہو چکا تھا۔
نقوی نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پر کیا الزام لگایا؟
نقوی نے الزام لگایا کہ سہیل آفریدی نے طے شدہ ڈرافٹ میں ترمیم کر کے مذاکرات سبوتاژ کیے اور خود مذاکرات میں شریک نہیں ہوئے۔
آفریدی کے ڈرافٹ میں کیا شامل ہے؟
آفریدی کے آن لائن جاری ڈرافٹ میں وزیر اعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقاتوں، عمران خان اور بشریٰ بی بی کے طبی و قانونی حقوق، خواتین سیاسی قیدیوں کی رہائی اور 72 گھنٹوں میں مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک کا مطالبہ شامل ہے۔
کیا پی ٹی آئی کا مارچ جاری رہے گا؟
جی ہاں۔ لانگ مارچ کا پہلا مرحلہ اتوار کو لکی مروت سے شروع ہوا اور پارٹی کا کہنا ہے کہ یقین دہانیوں کی خلاف ورزی پر پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھا جائے گا۔

