کراچی: محکمہ موسمیات پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال سندھ میں مون سون کی بارش معمول سے 50.8 فیصد کم ہوئی، جو ملک کے تمام خطوں میں سب سے بڑی کمی ہے۔
یکم جولائی سے 30 ستمبر تک کے مون سون سیزن میں پاکستان بھر میں اوسطاً 120.5 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ 1991 سے 2020 کے طویل مدتی معمول کے مطابق یہ اوسط 149.2 ملی میٹر بنتی ہے، یعنی مجموعی طور پر 19.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
سندھ میں صرف 71.1 ملی میٹر بارش ہوئی جبکہ معمول کی اوسط 144.3 ملی میٹر ہے۔ بلوچستان میں بھی 33.7 فیصد کی نمایاں کمی دیکھی گئی جہاں معمول کے 58.9 ملی میٹر کے مقابلے میں 39.1 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
دیگر علاقوں کی صورتحال
شمالی علاقوں اور بالائی صوبوں میں بھی معمول سے کم بارش ہوئی۔ آزاد جموں و کشمیر میں 18.4 فیصد کمی کے ساتھ 371.3 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں 302.8 ملی میٹر بارش ہوئی۔ خیبر پختونخوا میں 270.9 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں 226.7 ملی میٹر یعنی 16.3 فیصد کم بارش ریکارڈ کی گئی۔ پنجاب نسبتاً مستحکم رہا جہاں 251 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں 241.4 ملی میٹر یعنی صرف 3.8 فیصد کمی ہوئی۔ گلگت بلتستان واحد خطہ رہا جہاں معمول سے زیادہ بارش ہوئی — 51.8 ملی میٹر کے معمول کے مقابلے میں 54.1 ملی میٹر یعنی 4.6 فیصد زائد بارش ریکارڈ کی گئی۔
مون سون کمزور کیوں رہا؟
موسمیاتی ماہرین نے کمی کی چار بڑی وجوہات بتائیں۔ پہلی وجہ ایل نینو ہے — وسطی اور مشرقی استوائی بحرالکاہل میں سمندری سطح کے بڑھتے درجہ حرارت نے جنوبی ایشیا کے مون سون نظام کو متاثر کیا۔ دوسری وجہ بحر ہند ڈائپول کا کمزور اور تاخیر سے بننا ہے جس کے مثبت اثرات عروج کے موسم میں محدود رہے۔ تیسری وجہ طویل مدتی موسمیاتی تبدیلی ہے جس نے مون سون نظام کو بے قاعدہ کر دیا ہے۔ چوتھی وجہ علاقائی درجہ حرارت کا فرق ہے — شمالی بلند علاقوں خصوصاً گلگت بلتستان میں بڑھتے درجہ حرارت نے مقامی بارش بڑھائی جبکہ جنوبی میدانی علاقے خشک رہے۔
شجرکاری کی تجویز
ماہرین نے پالیسی سازوں کو مشورہ دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے بارشوں پر اثرات کم کرنے کے لیے خصوصاً شمالی علاقوں میں شجرکاری بڑھائی جائے۔
ویب ڈیسک

