روات کے نواحی گاؤں مہری کھمبل میں لالٹین کی روشنی میں ریاضی سیکھنے والی بچی آج بین الاقوامی کلائنٹس کے ساتھ کام کرنے والی کامیاب فری لانس ریاضی کنٹینٹ رائٹر ہے۔ سمنہ رضوان کی کہانی تعلیم اور مستقل مزاجی کی طاقت کی عکاس ہے۔
لالٹین کی روشنی میں شروعات
سمنہ رضوان کے مطابق ان کے والد انجینئر تھے جنہیں پاکستان کے غوری میزائل منصوبے میں خدمات پر تمغہ بقا ملا۔ محدود وسائل کے باوجود علم کی قدر کرنے والے گھرانے نے ان میں ریاضی کا شوق پروان چڑھایا۔
ڈیجیٹل اسکلز سے کامیابی
انٹرنیٹ نے ان کی زندگی میں نیا باب کھولا۔ برسوں کی محنت سے انہوں نے عالمی فری لانسنگ مارکیٹ میں ریاضی کنٹینٹ رائٹنگ میں مہارت حاصل کی۔ ان کے مطابق انہیں 15 سال سے زائد کا تجربہ ہے، وہ ریاضی کی دو درسی کتب لکھ چکی ہیں اور آن لائن کام سے 350,000 ڈالر سے زائد کما چکی ہیں۔
دوسروں کے لیے رہنمائی
سمنہ رضوان اب خواتین سمیت نئے آنے والوں کو ڈیجیٹل اسکلز سیکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا پیغام ہے کہ فوری کامیابی کے بجائے قیمتی ہنر پر توجہ دی جائے۔ شادی، گھریلو ذمہ داریوں اور ایک سرجری جیسے چیلنجز کے باوجود انہوں نے ہمت نہ ہاری — یہی مستقل مزاجی ان کی کامیابی کا راز ہے۔

