لاہور: صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی حتمی رپورٹ کے مطابق رواں برس کے مونسون سیزن میں پنجاب بھر میں 65 افراد ہلاک اور 382 زخمی ہوئے، جبکہ 224 مکانات کو نقصان پہنچا اور 21 مویشی ہلاک ہوئے۔ سیزن کے اختتام پر یہ رپورٹ جمعرات کو لاہور میں جاری کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق چار ماہ طویل بارشوں کے دوران اضلاع سے موصول ہونے والے اعداد و شمار کو یکجا کر کے یہ حتمی تعداد مرتب کی گئی ہے۔ بیشتر اضلاع میں معمول سے کہیں زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔
سب سے زیادہ بارش کہاں ہوئی
راولپنڈی 1505 ملی میٹر بارش کے ساتھ صوبے میں سرفہرست رہا، اس کے بعد لاہور میں 1316 اور سیالکوٹ میں 1256 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔ گوجرانوالہ میں 1161، جہلم میں 935، گجرات میں 865، منڈی بہاؤالدین میں 810 اور نارووال میں 786 ملی میٹر بارش ہوئی۔
مری میں 757، اٹک میں 749، وزیرآباد میں 741 اور منگلا میں 602 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ اوکاڑہ، سرگودھا، فیصل آباد، شیخوپورہ، چکوال، حافظ آباد، قصور، ننکانہ صاحب، بہاولنگر، نورپور تھل، میانوالی، خوشاب اور ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بھی نمایاں بارشیں ہوئیں، جبکہ جھنگ، چنیوٹ، جوہرآباد، ساہیوال، پاکپتن، بہاولپور، خانیوال، ملتان، کوٹ ادو، ڈیرہ غازی خان، رحیم یار خان، راجن پور اور وہاڑی میں بھی بارش ریکارڈ کی گئی۔
شیخوپورہ میں بدترین صورتحال
سیزن کا سب سے زیادہ نقصان ضلع شیخوپورہ میں ہوا جہاں نالہ بھیڈ اور نالہ ڈیک میں طغیانی سے سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی۔ ان نالوں کے پانی سے فیروزوالہ اور مریدکے کے 58 دیہات زیر آب آ گئے، 83 مواضعات اور 43 ہزار 188 ایکڑ اراضی متاثر ہوئی۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان کے مطابق شیخوپورہ میں فصلوں کے نقصان پر کسانوں اور مکانات کے نقصان پر رہائشیوں کو معاوضے کی فراہمی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مونسون کے دوران پنجاب کے کسی دریا میں بڑا سیلاب نہیں آیا اور تمام دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا۔ سیزن بھر دریاؤں، ڈیموں اور بیراجوں کی مسلسل نگرانی کی گئی۔
متاثرین کے لیے معاوضہ اور ریسپانس
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے محمد سیف انور جپہ نے کہا کہ ریکارڈ بارشوں کے باوجود بارش کے پانی کی بروقت نکاسی یقینی بنائی گئی اور نکاسی کے لیے پہلے سے انتظامات کر کے مشینری بروقت فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ زخمیوں کو طبی امداد دی گئی اور ہلاکتوں، زخمیوں اور املاک و مویشیوں کے نقصان پر متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا جائے گا۔ پی ڈی ایم اے کے کنٹرول روم میں چوبیس گھنٹے نگرانی کا نظام فعال رہا اور بارشوں سے متعلقہ واقعات سے نمٹنے کے لیے متعلقہ محکموں سے رابطہ قائم رکھا گیا۔

