پنجاب حکومت نے جمعے کو صحت کے تین بڑے منصوبوں کے لیے 45 ارب 13 کروڑ روپے کی منظوری دے دی۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ رقم مالی سال 2026-27 کے غیر ترقیاتی بجٹ میں شامل کر لی گئی ہے، اور فنڈز کا اجرا متعلقہ منصوبوں کی کارکردگی سے مشروط ہوگا۔
رقم کہاں خرچ ہوگی؟
سب سے بڑی رقم، 30 ارب 63 کروڑ روپے، مریم نواز ہیلتھ کلینکس پروگرام کے پہلے، دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے منظور کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ مالی معاونت کے ماڈل کے تحت مریم نواز دیہی اسپتالوں کے لیے 10 ارب روپے جب کہ پنجاب فیملی پلاننگ پروگرام کے لیے 4 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
منظور شدہ فنڈز صوبے بھر میں ہیلتھ کلینکس اور فیملی پلاننگ کی سہولتوں پر خرچ ہوں گے۔ بجٹ میں شمولیت کے بعد اب رقم کے اجرا کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
منصوبوں کا پس منظر
مریم نواز ہیلتھ کلینکس پروگرام صوبائی حکومت کا بنیادی صحت کی سہولتوں کا نمایاں منصوبہ ہے، جس کا مقصد پسماندہ علاقوں تک بنیادی طبی سہولتیں پہنچانا ہے۔ تین مرحلوں پر پھیلی فنڈنگ ظاہر کرتی ہے کہ یہ ایک کثیر سالہ منصوبہ ہے، نہ کہ ایک بار کی رقم۔
دیہی اسپتالوں کے لیے مالی معاونت کا ماڈل ایسے مالیاتی بندوبست کی طرف اشارہ کرتا ہے جس میں شراکت داروں کے ساتھ اخراجات بانٹے جائیں گے، جب کہ فیملی پلاننگ کے لیے مختص رقم آبادی کی فلاح کے شعبے پر صوبے کی مسلسل توجہ کو ظاہر کرتی ہے۔
اجرا کارکردگی سے مشروط
قابل ذکر بات یہ ہے کہ رقم خودکار طور پر جاری نہیں ہوگی۔ فنڈز کا اجرا متعلقہ پروگراموں کی کارکردگی پر منحصر ہوگا — یہ شرط صوبے کے صحت کے اخراجات میں بہتر ترسیل اور احتساب کے لیے عائد کی گئی ہے۔
اکثر پوچھے گئے سوالات
پنجاب نے صحت کے منصوبوں کے لیے کتنی رقم منظور کی؟
مالی سال 2026-27 کے غیر ترقیاتی بجٹ میں تین پروگراموں کے لیے 45 ارب 13 کروڑ روپے منظور کیے گئے۔
یہ رقم کن منصوبوں کو ملے گی؟
مریم نواز ہیلتھ کلینکس (تینوں مرحلے) کے لیے 30 ارب 63 کروڑ، مریم نواز دیہی اسپتالوں کے لیے 10 ارب اور پنجاب فیملی پلاننگ پروگرام کے لیے 4 ارب 50 کروڑ روپے۔
فنڈز کب جاری ہوں گے؟
رقم پروگراموں کی کارکردگی کی بنیاد پر جاری کی جائے گی، اب کہ یہ مختص رقم رواں مالی سال کے بجٹ کا حصہ بن چکی ہے۔
ویب ڈیسک

