کوئٹہ: اغوا ہونے والے ڈپٹی کمشنر خاران منیر سومرو تقریباً دو ہفتے قید میں رہنے کے بعد بازیاب ہو کر کوئٹہ پہنچ گئے ہیں۔ صوبائی حکام نے جمعے کو ان کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ قبائلی عمائدین کی مداخلت پر ان کی رہائی عمل میں آئی۔ اہل خانہ نے بھی ان کے بخیریت واپس آنے کی تصدیق کی ہے۔
منیر سومرو کو 20 ستمبر کو کوئٹہ سے خاران جاتے ہوئے ضلع خاران کے علاقے برشونکی میں نامعلوم مسلح افراد نے اسلحے کے زور پر اغوا کیا تھا۔ وہ نجی گاڑی میں تین دیگر افراد کے ہمراہ سفر کر رہے تھے، اغوا کار چاروں کو نامعلوم مقام پر لے گئے تھے۔ اغوا کے تیسرے روز اغوا کاروں نے ان کے ڈرائیور اور سیکیورٹی گارڈ کو رہا کر دیا تھا تاہم ڈپٹی کمشنر جمعے تک قید میں رہے۔
بازیابی کیسے ممکن ہوئی
واقعے کے بعد سرکاری حکام نے رہائی کے لیے مختلف کوششیں کیں جن میں بااثر قبائلی شخصیات سے مدد مانگنا بھی شامل تھا۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے مشیر برائے میڈیا امور بابر یوسفزئی نے بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری افسران اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ رہائی غیر مشروط تھی، اغوا کاروں کے مطالبات تسلیم کیے گئے یا تاوان ادا کیا گیا۔ حکام نے بازیابی کے مقام، گرفتاریوں یا اغوا کے ذمہ داروں کے بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں بتائی اور کسی گروہ نے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بلوچستان میں اغوا کی لہر
منیر سومرو کا اغوا گزشتہ ماہ بلوچستان بھر میں پولیس اور سرکاری افسران کے اغوا کی لہر کا حصہ تھا۔ ان کے اغوا کے چند روز بعد نوشکی کے علاقے احمد وال سے تھانہ مال کے ایس ایچ او میر منڈا خان مندوئی کو اغوا کیا گیا۔ اسی دوران چاغی میں قائم مقام ایس ایچ او اے ایس آئی گل شاہ خان محمد حسنی، کوئٹہ کے علاقے پنجپائی کے قریب شادی پر جاتے ہوئے تین پولیس اہلکار اور مستونگ کے علاقے درین گڑھ میں افسر عبدالرسول سمالانی بھی اغوا ہوئے۔ رواں سال کے شروع میں جامعہ تربت کے وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر اور ایک لیکچرر کے اغوا کی بھی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
خاران کوئٹہ سے تقریباً 300 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور طویل عرصے سے بدامنی اور عسکریت پسندی کا شکار رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر ضلع کا اعلیٰ ترین انتظامی افسر ہوتا ہے جو لینڈ ریکارڈ، امدادی کارروائیوں، ترقیاتی منصوبوں اور امن و امان کے امور کی نگرانی کرتا ہے، اس لیے ان کا اغوا سول انتظامیہ کے لیے براہ راست چیلنج تھا۔
ویب ڈیسک

