پرتھ: پاکستان کی کپتان فاطمہ ثنا باضابطہ طور پر پرتھ اسکارچرز کی کھلاڑی بن گئی ہیں۔ ہفتے کو اس معاہدے کی تصدیق ہوئی، جس کے تحت 24 سالہ آل راؤنڈر ویبر ڈبلیو بی بی ایل 12 کے لیے ایک سالہ معاہدے پر کلب میں شامل ہوئی ہیں۔ فاطمہ ثنا ڈبلیو بی بی ایل میں کھیلنے والی صرف دوسری پاکستانی خاتون ہیں۔ ثنا سیزن کے ابتدائی آٹھ میچوں کے لیے دستیاب ہوں گی اور واکا گراؤنڈ میں اپنا ڈبلیو بی بی ایل ڈیبیو کریں گی۔
ڈرافٹ کی مایوسی کے بعد کامیابی
ثنا کو گزشتہ برس غیر ملکی کھلاڑیوں کے ڈرافٹ کے لیے نامزد کیا گیا تھا مگر آٹھوں بگ بیش ٹیموں میں سے کسی نے انہیں منتخب نہیں کیا تھا۔ مقابلے کے معاہداتی نظام میں تبدیلیوں کے تحت ڈرافٹ ختم کر دیا گیا ہے، اور اب اسکارچرز نے براہِ راست ان کی خدمات حاصل کی ہیں۔ پاکستان کی کپتان نے کہا کہ اس لیگ میں موقع ملنے پر وہ بہت خوش ہیں۔ ان کا کہنا تھا: "میں نے پاکستان میں بیٹھ کر ڈبلیو بی بی ایل دیکھی ہے اور ہمیشہ سوچتی تھی کہ اس شاندار مقابلے کا حصہ بننا کیسا لگے گا۔ اب اسکارچرز کے رنگ پہننا، اتنے بڑے کلب کی نمائندگی کرنا اور وطن میں بیٹھے لوگوں کی داد کے ساتھ واکا گراؤنڈ میں اترنا ناقابلِ یقین ہے۔ یہ واقعی ایک خواب کا پورا ہونا ہے۔”
ثنا کے لیے تاریخی سال
کراچی سے تعلق رکھنے والی آل راؤنڈر نے 2019 میں جنوبی افریقہ کے دورے پر پاکستان کے لیے ڈیبیو کیا تھا۔ دو برس بعد وہ آئی سی سی ایوارڈ جیتنے والی پہلی پاکستانی خاتون بنیں، جب انہیں 2021 کی آئی سی سی ویمنز ایمرجنگ کرکٹر آف دی ایئر قرار دیا گیا۔ وہ 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ سے پاکستان کی مستقل کپتان ہیں اور اس برس کے ٹورنامنٹ میں 11 وکٹیں لے کر ٹیم آف دی ٹورنامنٹ میں جگہ بنانے والی نمایاں کھلاڑیوں میں شامل تھیں۔ مئی میں انہوں نے زمبابوے کے خلاف محض 15 گیندوں پر تیز ترین نصف سنچری بنا کر خواتین ٹی 20 انٹرنیشنل کی تاریخ رقم کی تھی، اور دو ماہ بعد انگلینڈ کے "دی ہنڈریڈ” میں برمنگھم فونکس کی نمائندگی کرتے ہوئے چھ میچ کھیلنے والی پہلی پاکستانی خاتون بنیں۔

