سیکیورٹی فورسز نے اتوار، 4 اکتوبر 2026 کو خیبر پختونخوا کے ضلع ڈیرہ اسماعیل خان میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا، جن میں تنظیم کے 3 اہم کمانڈر بھی شامل تھے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق انٹیلی جنس اطلاعات پر ضلع میں دہشت گردوں کی موجودگی کی نشاندہی کے بعد فوجی دستوں نے ان کے ٹھکانے کا محاصرہ کیا، جس کے بعد جھڑپ میں تمام مشتبہ افراد مارے گئے۔
کارروائی کی تفصیل
ذرائع کے مطابق ٹھکانے پر چھاپے کے دوران دہشت گردوں نے مزاحمت کی، تاہم سیکیورٹی دستوں نے موثر جوابی کارروائی میں آٹھوں کو ہلاک کر دیا۔ کارروائی کے مقام سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا، جس کے ساتھ غیر ملکی کرنسی بھی ملی۔ برآمد شدہ اسلحہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دہشت گرد علاقے میں بڑے پیمانے پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے۔
فتنہ الخوارج کون ہیں؟
ہلاک ہونے والے دہشت گرد فتنہ الخوارج سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ نام پاکستانی ریاست کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے لیے استعمال کرتی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق مارے گئے 3 کمانڈر تنظیم کے مقامی کمانڈ ڈھانچے کی سینئر شخصیات تھے۔ ان کی ہلاکت سے تنظیم کی علاقے میں حملوں کی منصوبہ بندی اور انجام دہی کی صلاحیت کو شدید دھچکا لگے گا۔
قیادت کا ردعمل
صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب آپریشن پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی۔
صدر زرداری نے 8 دہشت گردوں کے خاتمے اور اسلحے کی برآمدگی پر اہلکاروں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی فورسز کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اور فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں پوری قوت سے جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے سیکیورٹی اہلکاروں کی بہادری اور عزم کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں امن اور استحکام کے لیے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔
محسن نقوی نے فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف صف اول میں ہے اور فورسز اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہیں۔
ستمبر کے مشکل حالات
ڈیرہ اسماعیل خان کی یہ کارروائی اس سے ایک روز قبل خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں علیحدہ کارروائیوں میں 11 دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد سامنے آئی۔ وہ کارروائیاں جنوبی وزیرستان اور گوئیندر۔مشکے کے علاقے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف جاری مہم کے تحت کی گئیں۔
پے در پے ہونے والی یہ کارروائیاں چیلنج کی سنگینی کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز، جو اسلام آباد کا ایک تحقیقی ادارہ ہے، کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں ملک بھر میں 225 دہشت گرد حملے ریکارڈ ہوئے، جو اگست کے 199 حملوں کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ مسلسل تیسرے مہینے اضافہ تھا اور 12 سال کی سب سے زیادہ ماہانہ تعداد تھی۔
اسلام آباد نے بارہا کابل پر زور دیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر حملوں کے لیے دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکا جائے۔ افغان طالبان حکام نے اس مؤقف کو تسلیم نہیں کیا۔ یہ اختلاف دونوں ممالک کے تعلقات کا ایک انتہائی مشکل نقطہ بنا ہوا ہے۔
آگے کیا ہوگا؟
ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے میں صفائی کی کارروائیاں جاری ہیں تاکہ دہشت گردوں کی باقی ماندہ موجودگی کو ختم کیا جا سکے۔ سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ عزمِ استحکام وژن کے تحت فتنہ الخوارج کے خلاف مہم پوری رفتار سے جاری رہے گی۔ یہ وژن انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کا قومی فریم ورک ہے جو ایپیکس کمیٹی سے منظور شدہ ہے۔
ویب ڈیسک

