اسلام آباد: امریکہ اور ایران فوری دو ہفتے کی جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں جس میں پاکستان نے معاہدے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی سرزمین پر بڑے فوجی حملوں کی ڈیڈ لائن سے چند گھنٹے قبل اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
جنگ بندی ٹرمپ، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے درمیان براہ راست گفتگو کے بعد ہوئی۔ پاکستان نے دونوں فریقوں پر زور دیا تھا کہ سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے دو ہفتے تک دشمنی روکی جائے۔ ٹرمپ نے تصدیق کی کہ پاکستانی قیادت نے ذاتی طور پر ان سے منگل کی رات طے شدہ فوجی حملے روکنے کی درخواست کی تھی۔
ایکس پر جاری بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے اس پیش رفت کا خیرمقدم کیا اور امریکی و ایرانی وفود کو جمعہ 10 اپریل 2026 کو امن مذاکرات کے لیے اسلام آباد مدعو کیا۔ ٹرمپ نے حملے معطل کرنے کی شرط رکھی کہ ایران آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے فوری اور مکمل طور پر دوبارہ کھولے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے تہران کی رضامندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج دفاعی کارروائیاں روک دیں گی اور دو ہفتے تک آبنائے ہرمز سے محفوظ سمندری گزرگاہ کی اجازت دیں گی۔ اسرائیل نے بھی جنگ بندی کے دوران حملے روکنے پر اتفاق کیا ہے۔ جنگ بندی کی خبر پر عالمی مالیاتی منڈیوں میں تیزی آئی اور تیل کی قیمتوں میں تقریباً 8 فیصد کمی ہوئی۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد مذاکرات میں امریکی وفد کی قیادت کریں گے۔

