پاکستانی پنشنرز کے لیے اچھی خبر ہے — اب پروف آف لائف سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لیے بار بار بینک جانے کی ضرورت نہیں رہی۔ نادرا نے ڈیجیٹل پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کی سہولت متعارف کرا دی ہے جس کے ذریعے اہل پنشنرز سرکاری پاک آئی ڈی موبائل ایپ سے گھر بیٹھے اپنی تصدیق مکمل کر سکتے ہیں۔ یہ سہولت مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہے۔
یہ سہولت 20 اگست 2026 کو شروع ہوئی تھی اور صرف ایک ماہ میں 3 لاکھ 37 ہزار سے زائد پنشنرز اس سے مستفید ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ایک لاکھ 74 ہزار 906 یعنی تقریباً 52 فیصد پنشنرز نے پاک آئی ڈی کے ذریعے گھر بیٹھے یہ عمل مکمل کیا۔ بزرگ پنشنرز، معذور افراد اور وہ ریٹائرڈ ملازمین جن کے لیے بینک یا سرکاری دفاتر جانا مشکل ہے، اس سہولت سے خاص طور پر فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
پروف آف لائف سرٹیفکیٹ کیا ہے؟
پروف آف لائف سرٹیفکیٹ ایک سرکاری دستاویز ہے جو اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ پنشنر زندہ ہے اور پنشن وصول کرنے کا اہل ہے۔ پنشن حکام اس تصدیق کے ذریعے یقینی بناتے ہیں کہ کسی پنشنر کے انتقال کے بعد ادائیگیاں جاری نہ رہیں اور سرکاری رقم دھوکہ دہی سے محفوظ رہے۔
پرانے نظام میں بہت سے بزرگ شہریوں کو بائیومیٹرک تصدیق کے لیے بینک جانا پڑتا تھا۔ عمر بڑھنے کے ساتھ انگلیوں کے نشانات مدھم ہو جاتے ہیں جس سے مشینیں تصدیق نہیں کر پاتیں۔ نئے نظام میں نادرا چہرے کی شناخت (فیشل ریکگنیشن) کے ذریعے تصدیق کی سہولت دیتا ہے، جو ایسے پنشنرز کے لیے متبادل راستہ ہے۔
پاک آئی ڈی سے تصدیق کا طریقہ
گھر سے درخواست کا کوئی الگ ویب فارم نہیں ہے — پورا عمل نادرا کی سرکاری پاک آئی ڈی ایپ میں ہوتا ہے۔ اینڈرائیڈ اور آئی فون صارفین اپنے متعلقہ اسٹور سے نادرا کی سرکاری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں (ڈویلپر کا نام نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی ہونا چاہیے)۔
ایپ میں لاگ اِن کرنے کے بعد بائیومیٹرک سروسز کا سیکشن کھولیں اور پروف آف لائف کا آپشن منتخب کریں۔ یہ بتائیں کہ سرٹیفکیٹ آپ اپنے لیے بنا رہے ہیں یا خاندان کے کسی اہل فرد کے لیے۔ شناختی معلومات کی جانچ کے بعد ایپ چہرے کی تصدیق کے لیے رہنمائی کرے گی — پنشنر کا چہرہ اسمارٹ فون کے کیمرے کے سامنے درست پوزیشن میں رکھیں اور روشنی کا خیال رکھیں۔ تصدیق کامیاب ہونے پر درخواست جمع کرا دیں۔
کامیاب تصدیق کے بعد نادرا سرٹیفکیٹ متعلقہ پنشن کنٹرولر کو الیکٹرانک طریقے سے بھجوا دیتا ہے، یعنی پنشنر کو پرنٹ نکال کر بینک جانے کی ضرورت نہیں۔ سرٹیفکیٹ پاک آئی ڈی کے آئی ڈی والٹ میں "مائی ڈاکیومنٹس” کے تحت POLC فولڈر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
کیا خاندان کا کوئی فرد مدد کر سکتا ہے؟
جی ہاں۔ اگر پنشنر خود ایپ استعمال نہیں کر سکتا تو اس کا قریبی رشتہ دار — شریک حیات، بیٹا، بیٹی، والدین، بھائی یا بہن — اپنے پاک آئی ڈی اکاؤنٹ سے یہ عمل مکمل کر سکتا ہے۔ تاہم پنشنر کا بائیومیٹرک تصدیق کے وقت موجود ہونا ضروری ہے؛ کوئی دوسرا شخص اس کی جگہ تصدیق نہیں کر سکتا۔
تصدیق کتنے عرصے کے لیے کارآمد ہے؟
نادرا کے مطابق کامیاب تصدیق کے بعد اگلے 6 ماہ تک پنشن کی ادائیگی جاری رہتی ہے۔ اس مدت کے ختم ہونے پر پنشنر کو متعلقہ پنشن اتھارٹی کے قواعد کے مطابق دوبارہ تصدیق کرانی ہو سکتی ہے۔
اسمارٹ فون نہ ہو تو کیا کریں؟
پاک آئی ڈی سے گھر بیٹھے تصدیق سب سے آسان راستہ ہے لیکن واحد راستہ نہیں۔ پروف آف لائف سرٹیفکیٹ نادرا رجسٹریشن مراکز، مجاز ای سہولت فرنچائزز اور شریک یونین کونسلز سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ نادرا کے مطابق یہ سہولت 5 ہزار سے زائد ای سہولت مراکز، 988 نادرا رجسٹریشن مراکز اور تقریباً 500 یونین کونسلز پر دستیاب ہے، جہاں پنشنرز کو ترجیحی سروس دی جاتی ہے۔ شدید معذوری والے افراد کے لیے موبائل رجسٹریشن وینز کی سہولت بھی موجود ہے۔
اوورسیز پاکستانی پنشنرز
بیرون ملک مقیم اہل پاکستانی پنشنرز بھی اس ڈیجیٹل نظام سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں — انہیں معمول کی تصدیق کے لیے پاکستان آنے کی ضرورت نہیں۔ بس ان کا نادرا شناختی ریکارڈ درست ہونا چاہیے اور متعلقہ پنشن اتھارٹی کا اس نظام میں شریک ہونا ضروری ہے۔
مدد کے لیے رابطہ
اگر ایپ میں کوئی مسئلہ ہو تو نادرا کے سرکاری چینلز استعمال کریں: ہیلپ لائن 1777 یا 051-111-786100۔ کسی بھی شخص کو اپنا پاک آئی ڈی پاس ورڈ، او ٹی پی یا بینک پن ہرگز نہ بتائیں — اصل نمائندہ کبھی یہ معلومات نہیں مانگے گا۔ اور یاد رکھیں: سرکاری پروف آف لائف سرٹیفکیٹ مفت ہے، اس کے لیے کوئی رقم مانگے تو ہوشیار رہیں۔

