اسلام آباد: وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ پیٹرول 14 پیسے فی لیٹر سستا ہو کر 387.40 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.89 روپے کمی کے بعد 400.35 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہو گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق قیمتوں میں یہ ردوبدل عالمی منڈی کے رجحانات کو مدنظر رکھ کر کیا گیا ہے۔
ٹیکسوں کا بوجھ برقرار
اس کمی کے باوجود صارفین کو بڑا ریلیف نہیں مل سکا کیونکہ حکومت پیٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیاں وصول کر رہی ہے، جس کے باعث پمپ پر قیمتیں بنیادی لاگت سے کہیں زیادہ ہیں۔
قیمتوں کا اتار چڑھاؤ
رواں سال ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو 520.35 روپے فی لیٹر کی بلند ترین سطح کو چھو گئی تھی۔ 28 فروری کو امریکہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ڈیزل 281 روپے سے بڑھنا شروع ہوا تھا۔ پیٹرول بھی 3 اپریل کو 458.41 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچا تھا جبکہ مارچ کے پہلے ہفتے میں یہ 266 روپے فی لیٹر تھا۔
کفایت شعاری کے اقدامات
دوسری جانب حکومت نے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کے پیش نظر کفایت شعاری کے اقدامات دوبارہ نافذ کر دیے ہیں۔ ان کے تحت مارکیٹیں رات 9 بجے بند ہوں گی اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن کے الاؤنس میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کٹوتی کی گئی ہے۔
13 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکلوں، آٹو رکشوں اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ریلیف اسکیم کا اعلان کیا تھا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے 29 ستمبر کو اس اسکیم کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ حکام کے مطابق اب تک 7.60 ملین کامیاب رجسٹریشنز ہو چکی ہیں اور 7.71 ملین ٹوکن استعمال کیے جا چکے ہیں۔
روزانہ قیمتوں کا تعین
17 جولائی سے اوگرا کو عالمی منڈی کے رجحانات کی بنیاد پر روزانہ ایندھن کی قیمتیں مقرر کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل مارچ سے قیمتیں ہفتہ وار تبدیل ہو رہی تھیں۔
پیٹرول زیادہ تر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمت میں تبدیلی متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ اور بجلی گھروں میں استعمال ہونے کے باعث عام آدمی کی زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے۔
ویب ڈیسک

