اسلام آباد: پاکستان میں بجلی صارفین کو اکتوبر 2026 کے بلوں میں ایک اور اضافے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے جی) نے اگست 2026 کے لیے تقریباً 1.73 روپے فی یونٹ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ کی درخواست کی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے 29 ستمبر کو اس درخواست پر سماعت کی تاہم 30 ستمبر تک حتمی فیصلہ جاری نہیں ہوا تھا۔ اس لیے صارفین 1.73 روپے کے اضافے کو حتمی منظور شدہ چارج نہ سمجھیں۔
اضافہ کتنا ہو سکتا ہے؟
اگر نیپرا مکمل 1.73 روپے فی یونٹ منظور کرے تو 100 یونٹ پر تقریباً 173 روپے، 200 یونٹ پر 346 روپے، 300 یونٹ پر 519 روپے، 500 یونٹ پر 865 روپے اور 1000 یونٹ پر 1730 روپے اضافی چارج بنے گا۔
صارفین پہلے ہی دوسری سہ ماہی 2026 کے لیے تقریباً 0.5194 روپے فی یونٹ سہ ماہی ٹیرف ایڈجسٹمنٹ ادا کر رہے ہیں جو ستمبر، اکتوبر اور نومبر 2026 میں وصول کی جا رہی ہے۔ دونوں مل کر 300 یونٹ پر تقریباً 674.82 روپے بنتے ہیں۔
مہنگی بجلی کی وجہ
سی پی پی اے حکام نے نیپرا سماعت میں بتایا کہ اگست میں تقسیم کار کمپنیوں کو تقریباً 14.464 ارب یونٹ بجلی اوسطاً 8.82 روپے فی یونٹ پر ملی۔ مہنگے درآمدی ایندھن اور سستی ذرائع سے کم پیداوار اس کی بڑی وجہ بنی۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل سے پیدا ہونے والی بجلی تقریباً 54 روپے، فرنس آئل سے 45.25 روپے اور آر ایل این جی سے 45.93 روپے فی یونٹ پڑی۔
کیا اضافہ حتمی ہے؟
نہیں۔ یہ سب سے اہم نکتہ ہے۔ نیپرا نے سماعت مکمل کر کے فیصلہ محفوظ کیا ہے اور جمع کرائے گئے حسابات کا جائزہ لے کر تفصیلی فیصلہ جاری کرے گا۔ حتمی ایڈجسٹمنٹ 1.73 روپے بھی رہ سکتی ہے اور کم بھی ہو سکتی ہے۔
یاد رہے کہ ستمبر کے بلوں میں صارفین جولائی 2026 کے لیے تقریباً 2.06 روپے فی یونٹ ایف سی اے پہلے ہی ادا کر چکے ہیں۔ نیپرا کے حتمی فیصلے میں بعض صارفین کیٹیگریز کے لیے استثنیٰ بھی ہو سکتا ہے۔
بل میں کیسے دیکھیں؟
بجلی کا بل ملنے پر فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ یا ایف سی اے کی سطر تلاش کریں۔ اپنے بل کے یونٹس کا پچھلے مہینوں سے موازنہ کریں۔ ڈپلیکیٹ بل یا تفصیل کے لیے اپنی تقسیم کار کمپنی کے سرکاری پورٹل کا استعمال کریں۔
ویب ڈیسک

