تیل کی قیمتیں جمعرات کو اچھل گئیں اور فی بیرل 4 ڈالر سے زائد اضافے کے ساتھ بند ہوئیں۔ یہ اضافہ اس رپورٹ کے بعد ہوا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں مزید فوج اور بحری بیڑے بھیج رہا ہے اور چین نے تیل مصنوعات کی برآمدات معطل کر دی ہیں، جس سے عالمی ایندھن کی قلت مزید بڑھنے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔ چین کی برآمدی پابندی ایسے وقت میں آئی جب منڈی پہلے ہی ڈیزل اور صاف شدہ مصنوعات کی قلت کا شکار تھی۔
دسمبر کے برینٹ خام تیل کے نئے معاہدے 102.31 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئے جو 4.37 فیصد یا 4.28 ڈالر کا اضافہ ہے۔ امریکی ڈبلیو ٹی آئی 92.87 ڈالر فی بیرل پر بند ہوا جو 2.71 فیصد یا 2.45 ڈالر زیادہ ہے۔
چین کی پابندی سے منڈی کیوں ہل گئی
وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکہ تیسرا طیارہ بردار بحری بیڑا اور 10 ہزار تک اضافی فوجی مشرق وسطیٰ بھیج رہا ہے کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے دوبارہ شروع کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ ایران کے حوالے سے اپنے اختیارات پر غور کر رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے کہا: "اب مجھے فیصلہ کرنا ہے۔ یا تو وہ بہت منصفانہ معاہدے پر دستخط کریں گے، یا ان کا وجود ہی نہیں رہے گا۔”
ان تبصروں اور چین کی ایندھن برآمدات کی معطلی نے کاروباری سیشن کو غیر مستحکم بنا دیا۔ تیل کی قیمتوں میں صبح ایک فیصد کمی ہوئی تھی لیکن رائٹرز کی اس خبر کے بعد رخ بدل گیا کہ چینی ریفائنریوں نے ہانگ کانگ اور مکاؤ سے باہر تیل مصنوعات کی برآمدات اگلے حکم تک معطل کر دی ہیں۔ خبر میں اس معاملے سے واقف چار افراد کا حوالہ دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پیٹرو چائنا نے اکتوبر کے لیے طے شدہ پٹرول اور جیٹ فیول کے کئی کارگو بھی منسوخ کر دیے جو اس بات کی علامت ہے کہ چینی ریفائنریاں ملکی خام تیل اور ایندھن کے ذخائر میں حالیہ کمی کے بعد مقامی ذخائر کو ترجیح دے رہی ہیں۔
ڈیزل سب سے تنگ کڑی
خام تیل کی رسد منڈی تک پہنچ رہی ہے، تاہم خلیج اور روس میں ریفائنری کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے بعد ڈیزل اور دیگر صاف شدہ مصنوعات کی قلت برقرار ہے۔ ڈیزل کا سرفہرست برآمد کنندہ روس اکتوبر تک ایندھن کی برآمدات پر پابندی لگا چکا ہے۔
یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹاؤنووو نے کہا: "چین کی برآمدی پابندی ملکی مصنوعات کی دستیابی پر تشویش ظاہر کرتی ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا یہ اقدام چینی خام تیل اور ایندھن کے ذخائر میں کمی کے بعد زیادہ خام درآمدات کی حمایت کرے گا۔
حالیہ ہفتوں میں یورپی ڈیزل ریفائننگ مارجن ریکارڈ سطح کے قریب رہے اور سنگاپور سمیت بڑے تجارتی مراکز میں ذخائر تنگ رہے۔ خطے میں ریفائننگ کی صلاحیت مکمل بحال نہ ہونے کے باعث منڈی کو جن مصنوعات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ نایاب ہیں جبکہ خام تیل کی روانی جاری ہے۔
ویب ڈیسک

