اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت کے نئے پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2026 کے تحت اب ہر مقدمے کی سماعت کے لیے بینچ کی تشکیل کا فیصلہ صرف چیف جسٹس کریں گے۔ عدالت کی ویب سائٹ پر جاری کردہ رولز کے مطابق چیف جسٹس کو بینچز کی تشکیل میں مکمل اختیار حاصل ہوگا، جسے قانونی زبان میں "ماسٹر آف دی روسٹر” کہا جاتا ہے۔
یہ نظام سپریم کورٹ سے واضح طور پر مختلف ہے، جہاں 2023 سے بینچز کی تشکیل تین سینئر ججوں پر مشتمل کمیٹی کرتی آ رہی ہے۔
نئے رولز میں کیا کہا گیا ہے
رولز کے مطابق ہر مقدمہ، اپیل یا معاملہ — بشمول ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ کے فیصلے کے خلاف اپیل — کم از کم دو ججوں پر مشتمل بینچ سنے گا، اور ان تمام ججوں کا تقرر چیف جسٹس کریں گے۔ اگر بینچ کے ججز کی رائے برابر تقسیم ہو جائے تو چیف جسٹس اپنی صوابدید پر مقدمہ چیمبر میں کسی دوسرے جج کو بھیج سکتے ہیں یا اپنے نامزد کردہ بڑے بینچ کے سامنے رکھ سکتے ہیں۔
چیف جسٹس مقدمے کی اہمیت، پیچیدگی یا عوامی نوعیت کو دیکھتے ہوئے کسی بھی مرحلے پر لارجر بینچ بھی تشکیل دے سکتے ہیں، جس میں ججز کی تعداد کا تعین وہ خود حکم نامے کے ذریعے کریں گے۔
سپریم کورٹ کے ماڈل سے انحراف
مارچ 2009 میں عدلیہ کی بحالی کے بعد سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان کو "ہم خیال” بینچز بنانے پر شدید تنقید کا سامنا رہا۔ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے دور میں وزیراعظم شہباز شریف کی پی ڈی ایم حکومت نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 نافذ کیا، جس کے تحت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی کمیٹی بینچز تشکیل دیتی ہے۔ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں فل کورٹ نے بعد میں اس قانون کو برقرار رکھا۔
اکثریتی ججز، جن میں موجودہ ایف سی سی کے چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس حسن اظہر رضوی بھی شامل تھے، نے تین رکنی کمیٹی کے نظام کی حمایت کی تھی۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بھی آئینی بینچز کے لیے یہ کمیٹی برقرار رکھی گئی اور سپریم کورٹ میں اب بھی نافذ ہے۔ تاہم 27ویں ترمیم کے ذریعے بنیادی حقوق اور آئینی تشریح کا دائرہ اختیار نئی قائم شدہ وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کر دیا گیا، جو اب اسی ایک شخصی نظام کے تحت چلے گی۔
وکلاء کا مؤقف
وکلاء کا کہنا ہے کہ ایف سی سی کو اتنی اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں کہ شفافیت یقینی بنانے کے لیے چیف جسٹس کی صوابدید پر کچھ نہ کچھ قدغن ضروری ہے۔ وکیل عبد المعز جعفری نے کہا کہ جب آپ نے ایک آزاد عدالت کا دل نکال دیا ہو تو اس کی جگہ کھڑی کی گئی عدالت کو درستگی اور کارکردگی کے ساتھ چلنا چاہیے، ایک منظم یونٹ کی طرح۔ ان کے بقول آزاد عدالت کی سربراہی میں "ماسٹر آف دی روسٹر” کا نظام ناقابل قبول تھا، لیکن ایف سی سی کے تناظر میں چیف کا مکمل کنٹرول ضروری ہے۔
ایف سی سی کے ججز کو ایک اور چیلنج کا سامنا بھی ہے جسے بعض وکلاء "تصور کی جنگ” قرار دیتے ہیں، کیونکہ ان کا تقرر وفاقی حکومت نے کیا ہے، جو سیاسی نوعیت کے مقدمات میں عدالت کے سامنے مرکزی فریق متوقع ہے۔ عدالت پہلے ہی پی ٹی آئی سے متعلق کئی مقدمات نمٹا چکی ہے: اس نے سپریم کورٹ سے عمران خان کی صحت سے متعلق کیس کا ریکارڈ طلب کیا، کے پی کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی نااہلی کے خلاف درخواست پر نوٹس جاری کیے، اور پشاور کی انسداد دہشت گردی عدالت کو پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات واپس لینے کی کے پی حکومت کی درخواست پر غور سے روک دیا۔
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ایف سی سی کے لیے 6 ارب 4 کروڑ 80 لاکھ روپے مختص کیے ہیں، لیکن عدالت کے فعال ہوئے دس ماہ گزرنے کے باوجود سات ججوں کی نشستیں خالی ہیں اور ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں 23 ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔
ویب ڈیسک

