اسلام آباد: ارکان پارلیمنٹ نے غیر رسمی معیشت کے لاکھوں مزدوروں کو پنشن اور سماجی تحفظ کے نظام میں شامل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ کابینہ کمیٹی برائے پنشن اصلاحات برائے غیر احاطہ شدہ لیبر فورس کے اجلاس میں گھریلو ملازمین، زرعی مزدوروں اور خود روزگار افراد کو قومی سیفٹی نیٹ میں لانے پر زور دیا گیا۔
رضاکارانہ پنشن اسکیم کی تجویز
ارکان نے کہا کہ ہر مزدور کو، چاہے اس کی ملازمت کی نوعیت کچھ بھی ہو، پنشن کے ذریعے محفوظ مالی مستقبل تک رسائی ہونی چاہیے۔
اجلاس کی صدارت کرنے والے وفاقی وزیر قانون و انصاف سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مجوزہ پنشن فریم ورک اس طرح ڈیزائن کیا جائے گا کہ وسیع رسائی، طویل مدتی مالی استحکام اور آنے والی نسلوں کے لیے قابل عمل ہو۔
انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ بین الاقوامی معیارات اور عالمی ادارہ محنت کے اصولوں سے ہم آہنگ رہے گا۔
کمیٹی نے ان مزدوروں تک پنشن کی رسائی بڑھانے کے مختلف ماڈلز کا جائزہ لیا جو اس وقت رسمی پنشن انتظامات سے باہر ہیں۔ توجہ گھریلو ملازمین، زرعی مزدوروں، خود روزگار افراد اور غیر رسمی شعبے کے دیگر مزدوروں کے لیے مجوزہ رضاکارانہ پنشن اسکیم پر مرکوز رہی۔
کنٹریبیوشن اور رجسٹریشن
ارکان نے آجروں، ملازمین اور خود روزگار افراد کے لیے ممکنہ کنٹریبیوشن کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لیا۔ ڈیجیٹل رجسٹریشن، شفاف ریکارڈ اور اسکیم کے طویل مدتی مالی استحکام پر تبادلہ خیال ہوا۔
آج کون اس نظام سے باہر ہے
پاکستان کے موجودہ پنشن ادارے، جیسے ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن، رسمی شعبے کے مزدوروں کا احاطہ کرتے ہیں، یعنی بنیادی طور پر فیکٹریوں اور رجسٹرڈ اداروں کے ملازمین۔ اس سے وسیع غیر رسمی معیشت باہر رہ جاتی ہے: نجی گھروں میں کام کرنے والے گھریلو ملازمین، کھیت مزدور، ریڑھی بان اور خود روزگار افراد، جو ملکی افرادی قوت کا بڑا حصہ ہیں۔
ان مزدوروں کو پنشن نظام میں لانا ملکی تاریخ میں سماجی تحفظ کی سب سے بڑی توسیع ہوگی، لیکن اس سے یہ مشکل سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ بے قاعدہ آمدنی اور رسمی آجر کے بغیر لوگوں سے کنٹریبیوشن کیسے وصول کیا جائے گا۔

