اسلام آباد: سیکیورٹی فورسز نے ہفتے کے روز خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں الگ الگ کارروائیوں میں 11 دہشت گرد ہلاک کر دیے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ کارروائیاں جنوبی وزیرستان اور ماشکیل کے علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا کر کی گئیں۔
دو صوبوں میں دو کارروائیاں
جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج یعنی کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے ٹھکانوں پر انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائی کی۔ اس دوران پانچ دہشت گرد ہلاک اور ان کے ٹھکانے تباہ کر دیے گئے، جبکہ دہشت گردوں سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا۔ دوسری جانب آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت گواریندر-ماشکیل کے علاقے میں فتنہ الہندوستان یعنی بھارت نواز دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی گئی۔ ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے علاقے میں ایک چیک پوسٹ پر فائرنگ کی اور حملے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی، جس پر سیکیورٹی فورسز نے بروقت جواب دیتے ہوئے فرار ہوتے چھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
محسن نقوی کی فورسز کو شاباش
وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے ہفتے کو دونوں صوبوں میں کامیاب انٹیلی جنس بنیاد پر کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کو سراہا۔ انہوں نے دہشت گردوں کے منصوبے ناکام بنانے پر فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور عوام کی حمایت سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔
دہشت گردی میں اضافہ
یہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے بالخصوص کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 میں پاکستان میں 12 برسوں کے دوران ایک ماہ میں دہشت گرد حملوں کی سب سے زیادہ تعداد ریکارڈ کی گئی۔

