ویب ڈیسک
قصور: بھارتی بارڈر سیکورٹی فورس کی دو روز قبل بلالاجواز فائرنگ سے شہید ہونے والے دو شہریوں عظمت رسول اور محسن جٹ کی نماز جنازہ اتوار کو قصور میں ادا کر دی گئی، جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ سرکاری ریڈیو پاکستان کے مطابق نماز جنازہ کے بعد دونوں شہدا کو ان کے آبائی گاؤں جٹاں والی حویلی لدھر میں سپرد خاک کر دیا گیا۔
لواحقین کا مطالبہ: بھارت براہ راست مقابلہ کرے
شہید ہونے والے شہریوں کے لواحقین نے کہا کہ وہ اس نقصان سے مایوس نہیں ہوئے۔ انہوں نے بھارت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحدی علاقوں کے غیر مسلح شہریوں کو نشانہ بنانے کی بجائے پاکستان کا براہ راست مقابلہ کرے۔ لواحقین کا کہنا تھا: "اگر بزدل بھارتی فوج میں ہمت ہے تو وہ مزاحمتی پاکستانی قوم کا براہ راست مقابلہ کرے۔”
سرحدی علاقے کے رہائشیوں نے بھی اس واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے "گھناؤنی” اور "شرمناک” حرکت قرار دیا۔
دو اکتوبر کو کیا ہوا
جمعہ دو اکتوبر کو بھارت کی بارڈر سیکورٹی فورس کے اہلکاروں نے قصور کے قریب پاک بھارت بین الاقوامی سرحد پر فائرنگ کر دی تھی، جس سے دو شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق لدھر گاؤں کے تین رہائشی سرحدی ستون سے چند قدم آگے بڑھے تھے کہ بی ایس ایف نے بغیر کسی انتباہ کے ان پر فائرنگ کر دی۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ تینوں میں سے کسی نے سرحدی باڑ عبور کرنے کی کوشش نہیں کی اور طاقت کا استعمال مکمل طور پر ناجائز تھا۔ زخمی شہری کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
پاکستان کا بھارتی ناظم الامور کو احتجاج
واقعے کے ایک روز بعد تین اکتوبر کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو طلب کر کے شدید احتجاج درج کروایا۔ دفتر خارجہ نے کہا کہ بی ایس ایف نے غیر مسلح شہریوں کے خلاف "بغیر اشتعال کے مہلک طاقت” استعمال کی اور شہید ہونے والوں کو "درانداز” قرار دینے کی ہر کوشش کو مسترد کر دیا۔ پاکستان نے واقعے کی فوری اور معتبر تحقیقات، ذمہ داروں کے خلاف تادیبی اور قانونی کارروائی اور واقعے کے دوبارہ پیش نہ آنے کی ٹھوس یقینی دہانی کا مطالبہ کیا۔
بھارت کا جوابی احتجاج
اسی روز بھارت نے بھی پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے مبینہ دراندازی کی کوشش پر احتجاج کیا اور دعویٰ کیا کہ تین افراد بھارتی حدود میں داخل ہوئے تھے اور انتباہ کے باوجود دو آگے بڑھتے رہے۔
آگے کیا ہوگا
اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ ان ہلاکتوں پر جواب دہی کا مطالبہ جاری رکھے گا، جب کہ عظمت رسول اور محسن جٹ کے لواحقین اپنے پیاروں کی تدفین کے بعد جوابات کے منتظر ہیں۔ اس فائرنگ سے پہلے سے کشیدہ سرحد پر کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے، اور دونوں فریق سفارتی ذرائع سے ایک دوسرے کو احتجاج بھجوا رہے ہیں۔

