ترکی نے اپنی دفاعی صنعت میں نمایاں پیش رفت کی ہے اور زمینی، فضائی و بحری دفاعی ٹیکنالوجیز میں خود انحصاری حاصل کر لی ہے۔ الجزیرہ کے مطابق نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ترکی نہ صرف اپنا دفاعی سازوسامان بنانے لگا ہے بلکہ عالمی اسلحہ برآمد کنندہ بھی بن گیا ہے۔
ترکی کی دفاعی برآمدات مسلسل بڑھ کر 2024 میں 7.1 ارب ڈالر ہو گئیں، جو ایک دہائی قبل 1.9 ارب ڈالر تھیں۔ یورپ اور مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک ترک ساختہ ہتھیار خرید رہے ہیں؛ پاکستان بھی بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ ملک میں آج 3,000 ہتھیاروں کے کارخانے کام کر رہے ہیں۔
مشہور دفاعی برآمدات
ترکی کی سب سے مشہور دفاعی برآمد بیرق دار ٹی بی 2 ڈرون ہے جو پہلی بار 2014 میں تعینات ہوا۔ دیگر اہم ڈرونز میں انکا ایس (200 کلوگرام ہتھیار لے جانے کی صلاحیت) اور ویسٹل کرائیل (70 کلوگرام پے لوڈ) شامل ہیں۔
ترکی "اسٹیل ڈوم” بھی تیار کر رہا ہے، جو اے آئی سے چلنے والا فضائی دفاعی نظام ہے جو ہوائی خطرات کی نشاندہی و ناکارہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ وہ اپنا پہلا مقامی پانچویں نسل کا لڑاکا طیارہ "ترکیش کان” بھی بنا رہا ہے جو امریکی ساختہ ایف 16 کی جگہ لے گا۔
زمینی دفاع میں ترکی نے الٹے مین بیٹل ٹینک، مائن مزاحم گاڑی کرپی اور جدید بکتر بند گاڑیاں کپلان و پارس تیار کی ہیں۔ بحری دفاع میں 2004 میں شروع کیے گئے ملجم منصوبے کے تحت اڈا کلاس کارویٹس اور استنبول کلاس فریگیٹس بنائی گئیں۔

