ویب ڈیسک
اپنے جسم کو جاننا آپ کا حق ہے، مگر اکثر خواتین اپنی چھاتی کا غور سے معائنہ کبھی نہیں کرتیں۔ چھاتی کا خود معائنہ صرف چند منٹ کا کام ہے، بالکل مفت ہے اور مکمل نجی طور پر گھر میں کیا جا سکتا ہے۔ باقاعدہ معائنے سے آپ اپنی معمول کی حالت پہچان لیتی ہیں، اس لیے کسی بھی تبدیلی کو جلد پکڑ سکتی ہیں۔ یہاں جانیں کہ کب، کیسے اور کیا دیکھنا ہے۔
خود معائنہ کیوں ضروری ہے؟
خود معائنہ ڈاکٹر کے معائنے یا میموگرام کا متبادل نہیں، بلکہ ان کا ساتھی ہے۔ پاکستان میں اکثر خواتین کے لیے کلینک جانا وقت، پیسے اور منصوبہ بندی مانگتا ہے، جبکہ خود معائنہ مفت، نجی اور ہر وقت دستیاب ہے۔ یہ ہر بالغ خاتون کے لیے عملی پہلا قدم ہے۔
کب اور کتنی بار معائنہ کریں؟
مہینے میں ایک بار معائنہ کافی ہے۔ اگر ایام آتے ہیں تو ایام ختم ہونے کے چند دن بعد معائنہ کریں، اس وقت چھاتیاں سب سے کم حساس اور کم گٹھلی دار ہوتی ہیں۔ ایام سے پہلے ہارمونز کی وجہ سے چھاتیاں سوجی اور گٹھلی دار ہو سکتی ہیں جس سے بے وجہ پریشانی ہوتی ہے۔ اگر ایام باقاعدہ نہیں، حاملہ ہیں یا دودھ پلا رہی ہیں تو مہینے کی کوئی ایک آسان تاریخ مقرر کر لیں، مثلاً ہر ماہ کی پہلی تاریخ۔
تیاری
آئینے والا نجی کمرہ، اچھی روشنی اور دس پندرہ منٹ کا پرسکون وقت چاہیے۔ لیٹ کر معائنے کے لیے چھوٹا تکیہ پاس رکھیں۔ ہاتھ گرم کر لیں اور پُرسکون رہیں، آپ کا مقصد اپنی معمول کی حالت سیکھنا ہے۔
آئینے کے سامنے معائنہ
کندھے سیدھے کر کے آئینے کے سامنے کھڑی ہوں۔ دونوں چھاتیوں کا سائز، شکل اور رنگ دیکھیں۔ ایک چھاتی کا تھوڑا بڑا ہونا بالکل معمول ہے۔ جلد پر گڑھے، سلوٹیں، سرخی یا سوجن دیکھیں۔ نپل میں کسی نئی دھنسی ہوئی شکل کو نوٹ کریں۔ دونوں بازو اوپر اٹھا کر سامنے اور پہلوؤں سے دیکھیں۔ پھر ہاتھ کولہوں پر رکھ کر سینے کے عضلات کس کر دیکھیں اور ہلکا جھک کر کسی نئی ناہمواری کو دیکھیں۔
لیٹ کر معائنہ
لیٹنے سے نسیج یکساں پھیل جاتی ہے۔ دائیں کندھے کے نیچے تکیہ رکھ کر دائیں بازو سر کے پیچھے کریں اور بائیں ہاتھ سے دائیں چھاتی چیک کریں۔ تین درمیانی انگلیوں کے چپٹے حصے سے چھوٹے دائرے بنائیں، ہر جگہ تین درجے کا دباؤ ڈالیں: ہلکا، درمیانہ اور گہرا۔ کالر بون سے چھاتی کے نیچے تک اور سینے کے درمیان سے بغل تک پورا علاقہ دیکھیں۔ نپل کو ہلکے سے دبا کر رطوبت نوٹ کریں۔ پھر دوسری طرف دہرائیں۔
نہاتے ہوئے معائنہ
گرم پانی اور صابن سے انگلیاں آسانی سے پھسلتی ہیں۔ ایک بازو سر کے پیچھے کر کے دوسری چھاتی پر تین انگلیوں کے چپٹے حصے سے چھوٹے دائرے بنائیں اور تینوں درجے کا دباؤ ڈالیں۔ پورا علاقہ ڈھانپیں اور دوسری طرف دہرائیں۔
کن تبدیلیوں پر نظر رکھیں؟
نئی گلٹی یا گاڑھا حصہ، سخت یا نہ ہلنے والی گلٹی، چھاتی یا اس کے کسی حصے کی سوجن، سنترے کے چھلکے جیسی جلد، سرخی یا خشکی، نئی دھنسی ہوئی نپل، نپل سے رطوبت خاص طور پر خونی، ایک جگہ مستقل درد اور بغل میں نہ جانے والی سوجن۔
کیا معمول ہے اور کب ڈاکٹر سے ملیں؟
عام طور پر معمول: ایام سے پہلے گٹھلی دار ہونا، ہلکا فرق، نپل کے گرد ننھے دانے، حمل میں نرمی اور نرم ہلنے والی گلٹیاں۔ ڈاکٹر سے فوری رجوع: نئی گلٹی جو اگلے ایام کے بعد بھی رہے، جلد کی تبدیلی، نئی دھنسی نپل، خونی رطوبت، ایک جگہ مستقل درد اور بغل کی سوجن۔
عام غلطیاں
ایام سے پہلے معائنہ، جلدی کرنا، انگلیوں کے سرے استعمال کرنا، بغل اور کالر بون چھوڑ دینا، صرف ایک طرف دیکھنا، بہت ہلکا دباؤ اور ایک بار کر کے چھوڑ دینا۔
کچھ غیر معمولی ملے تو کیا کریں؟
پہلے پُرسکون رہیں، اکثر گلٹیاں سرطانی نہیں ہوتیں۔ پھر دیر نہ کریں، جلد ڈاکٹر سے ملیں۔ کیا محسوس ہوا، کہاں اور کب، یہ نوٹ کر لیں۔ ڈاکٹر معائنہ کر کے الٹراساؤنڈ یا میموگرام تجویز کر سکتی ہے۔ چاہیں تو والدہ، بہن یا سہیلی کو ساتھ لے جائیں۔
پاکستان کی خواتین کے لیے خاص بات
ہمارے معاشرے میں اکثر خواتین چھاتی کی صحت کا ذکر کرتے ہوئے شرماتی ہیں۔ یاد رکھیں کہ خود معائنہ مکمل نجی ہے، کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں۔ طبی مشورے کے لیے خاتون ڈاکٹر مانگ سکتی ہیں۔ سرکاری اسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت میں لیڈی ڈاکٹرز روز یہی مسائل دیکھتی ہیں۔ یہ علم اپنی بہنوں اور بیٹیوں تک بھی پہنچائیں۔
عام سوالات
کیا خود معائنہ میموگرام کی جگہ لے سکتا ہے؟ نہیں، یہ پیشہ ورانہ معائنے کے درمیان ماہانہ عادت ہے۔ کس عمر سے شروع کریں؟ بیسی کی دہائی سے عادت بنائیں۔ کیا گلٹی دار ہونا معمول ہے؟ جی ہاں، اہم بات نئی اور مستقل تبدیلی ہے۔
یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے، طبی مشورہ نہیں۔ کسی بھی غیر معمولی تبدیلی پر مستند ڈاکٹر سے فوری رجوع کریں۔

