متحدہ عرب امارات سے خام تیل لوڈ کرنے کے بعد ایک پاکستانی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کامیابی سے عبور کر گیا ہے، جس سے ملک کی توانائی کی فراہمی کو بروقت سہارا ملا ہے۔ یہ پیش رفت ایک نازک لمحے میں سامنے آئی ہے: علاقائی کشیدگی بڑھی ہے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے عالمی تیل کے راستوں پر تشویش پیدا کی تھی، مگر تیل بردار جہاز نے اپنا سفر بغیر رکاوٹ جاری رکھا۔
بحری ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق ٹینکر "شالامار” جمعرات کو آبنائے ہرمز سے گزرا۔ بین الاقوامی نگرانی کے پلیٹ فارمز نے دنیا کے حساس ترین بحری راستوں میں سے ایک سے اس کے محفوظ گزر کی تصدیق کی۔ پاکستانی تیل بردار جہاز ابوظہبی سے تقریباً 440,000 بیرل خام تیل لے کر روانہ ہوا تھا۔ یہ کھیپ پاکستان کے لیے نمایاں اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ مستحکم ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کی کوششوں میں معاون ہے۔ رپورٹس کے مطابق جہاز جلد کراچی بندرگاہ پہنچنے والا ہے۔
ناکہ بندی کے بعد پہلا پاکستانی جہاز
ذرائع کے مطابق یہ ٹینکر ان دو پاکستانی بحری جہازوں میں شامل تھا جو پٹرولیم مصنوعات لوڈ کرنے کے لیے پہلے آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے تھے، مگر ناکہ بندی سخت ہونے کے بعد راستے سے نکلنے والا یہ پہلا پاکستانی تیل بردار جہاز بنا۔ پاکستان کے وزیر پٹرولیم نے تصدیق کی کہ کھیپ کا عمل بغیر کسی بڑی مشکل کے مکمل ہوا، جو مشکل حالات میں بھی توانائی کی لاجسٹکس سنبھالنے کی ملک کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ محفوظ گزر مثبت اشارہ دیتا ہے اور پاکستان کی توانائی سپلائی چین پر اعتماد مضبوط کرتا ہے۔ پاکستانی تیل بردار جہاز کا کامیاب سفر لچک اور محتاط منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے۔

